
1. امریکہ اور مسلم ممالک میں جنگیں
2001 کے بعد امریکہ نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ شروع کی۔ 2003 میں عراق پر حملہ کیا گیا، جس کی وجہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار (WMDs) بتائی گئی، لیکن بعد میں ایسے ہتھیار نہیں ملے۔امریکہ اور برطانیہ نے صرف معذرت کرکے جان چھڑا لی جبکہ انکو جو تباہی عراق میں کی تھی اسکا خمیازہ دینا چاہیے تھا لیکن بین الاقوامی غنڈہ گردی سے فائدہ اٹھا کر ایک ملک اور قوم کو تباہ کیا گیا اور عوام سے اور دنیا سے جھوٹ بولا گیا۔جبکہ موجودہ دور میں ان ممالک پر چڑھائی کرنے کی سازشیں سامنے آرہی ہیں۔
جنرل ویسلی کلارک نے متعدد انٹرویوز اور تقاریر میں کہا کہ 9/11 کے کچھ عرصے بعد پینٹاگون میں ایک سینئر فوجی افسر نے انہیں ایک میمو کے بارے میں بتایا جس میں مبینہ طور پر سات ممالک کے خلاف کارروائی کا منصوبہ درج تھا۔ کلارک کے مطابق جب انہوں نے پوچھا کہ عراق پر حملہ کیوں کیا جا رہا ہے تو افسر نے جواب دیا: “مجھے نہیں معلوم”۔ بعد میں انہیں بتایا گیا کہ ایک میمو میں “سات ممالک کو پانچ سال میں ختم کرنے” کا منصوبہ موجود ہے: عراق، شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور آخر میں ایران۔
بعد کے سالوں میں امریکہ شام، لیبیا، یمن، صومالیہ اور دیگر علاقوں میں مختلف فوجی کارروائیوں، ڈرون حملوں یا اتحادی افواج کی حمایت میں شامل رہا۔
2. امریکہ کی اسلامی ملکوں پر یلغار میں کتنے لوگ مارے گئے؟

مختلف تحقیقی اداروں کے اعداد و شمار مختلف ہیں۔
- بعض تحقیقی منصوبوں کے مطابق عراق، افغانستان، شام، یمن اور دیگر جنگوں میں لاکھوں افراد براہ راست یا بالواسطہ ہلاک ہوئے۔
- عراق
- 2003 کے بعد لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ مختلف مطالعات عراق اور شام میں مجموعی ہلاکتوں کو 5.5 سے 5.8 لاکھ یا اس سے زیادہ بتاتی ہیں، جبکہ بالواسطہ اموات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔
- شام
- خانہ جنگی میں تقریباً 5.8 لاکھ سے 6.5 لاکھ سے زائد افراد مارے گئے، جبکہ اقوام متحدہ نے کم از کم 306,887 شہری ہلاکتیں دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیں۔
- لیبیاء
- 2011 کے بعد کی جنگوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں متاثر ہوئے؛ ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا۔کرنل قذفی کو امریکہ نے قتل کروادیا۔
- سوڈان
- حالیہ جنگ نے دسیوں ہزار افراد کی جان لی اور لاکھوں کو بے گھر کیا۔ بعض اندازے 150,000 تک اموات کا ذکر کرتے ہیں
3. حکومتوں کی تبدیلی
تاریخ میں امریکہ نے مختلف ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی یا سیاسی مداخلت کی۔
مثالیں:
- ایران (1953)
- چلی (1973)
- افغانستان
- عراق
- لیبیا
ان معاملات میں مورخین اور سیاسی ماہرین کے درمیان بحث موجود ہے کہ مختلف طاقتوں نے کس حد تک کردار ادا کیا۔
4. 9/11 اور اسرائیل کی سازش کا دعویٰ
9/11 حملوں میں تقریباً 3000 افراد مارے گئے۔
سرکاری امریکی تحقیقات اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ شواہد کے مطابق ذمہ داری القاعدہ اور اس کے رہنماوں پر ڈالی گئی۔جبکہ حقیقت سے کوئی لینا دینا نہی تھا القاعدہ نے باضبطہ طور پر اسکو تسلیم نہی کیا تھا جبکہ ان پریہ فیصلہ امریکہ اور اسرائیلی لابی نے زبردستی تھوپ دیاتھا۔
یہ دعویٰ کہ “9/11 اسرائیل نے کروایا تھا” یہ بالکل درست تھ اور القاعدہ پر الزام ایک سازشی نظریہ (conspiracy theory) سمجھا جاتا ہے اور اس کے حق میں ایسا قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں جسے عالمی سطح پر قبول کیا گیا ہو۔جبکہ اسرائیل نے اس کی آڑ میں بہت سے اسلامی ممالک کو اپنے راستے سے ہٹایا۔
امریکی لوگوں کے مختلف بیانات کہ 9/11اسرائیل کی سازش تھی,لیری کا بلڈنگ خریدنا اور دھشتگردی کے لیے انشورنس کرنا,بلڈنگ کے بیسمنٹ میں دھماکے ہونا,عینی شاہدین کے بیانات کہ ہم نے دھماکے خود سنے تھے,بلڈنگ کے ٹاپ پرجہاز کاگرنالیکن بلڈنگ کازمین میں دھنس جانا بھی قابل قبول نہی ہے,بلڈنگ کاگرنا ہی سب سے بڑا ثبوت ہے جبکہ کچھ شاہدین نے یہ بھی کہا کہ جہاز کے ٹکرانے کے بعد فائرفائٹرز کے یونیفارم میں آئے اور چند ہی لمحوں بعد بلڈنگ میں دھماکے ہوگئے,یہودیوں کی غیرحاضری بھی ایک بہت بڑا سوال تھا,لیری کا خود غیرحاضرہونا اوریہ تمام باتیں محض اتفاق نہی ہوسکتی ہیں۔
5. عسکری تنظیمیں اور امریکی حمایت
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ:
- 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں امریکہ، پاکستان اور بعض عرب ممالک نے مختلف مجاہد گروہوں کی حمایت کی۔
- بعد میں بعض شدت پسند گروہوں نے انہی علاقوں میں جنم لیا یا مضبوط ہوئے۔
لیکن یہ کہنا کہ “تمام دہشت گرد تنظیمیں امریکہ یا اسرائیل نے بنائیں” تاریخی طور پر درست اور ثابت شدہ دعویٰ ہے۔
6. “دہشت گرد کون؟”
یہ سیاسی اور اخلاقی سوال ہے جس پر دنیا میں شدید اختلاف موجود ہے۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں:
- اگر عام شہریوں کا قتل دہشت گردی ہے تو ریاستی طاقت کے ذریعے عام شہریوں کی ہلاکتوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
دوسری طرف حکومتیں اپنے اقدامات کو قومی سلامتی، جنگ یا دفاع کے نام پر جائز قرار دیتی ہیں۔
نتیجہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ عراق، افغانستان، فلسطین، شام، یمن، لیبیا اور دیگر تنازعات میں لاکھوں مسلمان متاثر ہوئے، بے گھر ہوئے یا مارے گئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیوں پر دنیا بھر میں شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ تاہم 9/11 کے بارے میں اسرائیلی سازش اور “11 ملین مسلمانوں کے قتل کرنے پر انکو عالمی سطح پر دھشتگرد ڈیکلئیر کردینا چاہیے اور انکو عالمی عدالت میں کھڑا کرنا چاہیے۔
اپنی قیمےی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔۔شکریہ
Leave a Reply