اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو باہر کیوں بھیجنا چاہتی ہے؟کیا آنکھ کی بیماری بھی اسی سازش کا حصہ ہے۔

عمران خان سے کیسے جان چھڑائیں۔جرنیل پریشان ہیں ؟اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر سے عمران خان کا ملک کے اندر، اور خاص طور پر جیل میں ہونا، ایک مستقل دردِ سر ہے۔ ان کو باہر بھیجنے کی کوششوں کے پیچھے چند بڑی وجوہات ہیں:

اسٹیبلشمنٹ کے ناکامی اور پاکستان کی تباہی

اسٹیبلشمنٹ کی پریشانی کی وجوہات :

  • سیاسی دباؤ اور بے چینی کا خاتمہ: عمران خان جب تک ملک کے اندر موجود ہیں، وہ ملکی سیاست کا محور بنے ہوئے ہیں۔ مقتدرہ چاہتی ہے کہ سیاسی درجہ حرارت کم ہو، اور ایسا تبھی ممکن ہے جب مرکزی کردار منظر نامے سے ہٹ جائے۔
  • نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا ماڈل: ماضی میں جب بھی اسٹیبلشمنٹ کو کسی بڑے مقبول رہنما (جیسے نواز شریف یا پریسڈنٹ مشرف کے دور میں دیگر رہنما) سے خطرہ محسوس ہوا، تو “مائنس ون فارمولا” کے تحت انہیں بیرونِ ملک بھیجنا سب سے آسان اور آزمودہ حل سمجھا گیا۔ مقتدرہ اسی روایتی اسکرپٹ کو دہرانا چاہتی ہے۔
  • احتجاجی لہر کو روکنا: جیل میں رہتے ہوئے بھی عمران خان کی عوامی مقبولیت اور ان کا بیانیہ برقرار ہے۔ مقتدرہ کو خدشہ رہتا ہے کہ کسی بھی وقت کوئی بڑی عوامی تحریک یا احتجاجی لہر حکومت کو مفلوج کر سکتی ہے۔پی ٹی آئی باربار احتجاج کرنے کی کوششیں کررہی ہے,ملک عدم استحکام کا شکارہے,اسٹیبلشمنٹ جرنل ایوب خان کے دور سے لیکر جرنل ضیاء الحق,پھر مشرف اور پھرباجوااور عاصم منیر تک اس ملک پر باربار تجربے کرچکی ہے مگرناکام رہی ہے۔جب تک جرنیل اس بات کو سمجھیں گے نہی کہ یہ ملک عوام کی قربانیوں سے بنا ہے نہ کہ جرنیلوں کی قربانیوں یا پھر غصب کردہ زمین نہی ہے تویہ ملک عدم استحکام کا شکاررہے گا اس سے نہ تو عوام کو فائدہ ہے اور نہ ہی اس ملک کو فائدہ ہے اصل فائدہ جرنیلوں اور اسرائیل اور امریکہ کو ہے کہ جب تک سوڈان,عراق,شام,مصر,لیبیاء کیطرح یہ جرنیل ہمارے نقش قدم پر اور ہمارے ڈالروں پر خدمات انجام دیں گے یہ ملک ترقی نہی کرسکے گایہ اسی طرح عدم استحکام سے چلے تو ٹھیک ہے اگریہ ملک مستحکم رہا اور ترقی کرتارہا تو یہ ہمارے لیے ایران سے بھی بہت بڑی بلا بن جائے گا۔ا
  • س لیے ایران پابندیوں کے باوجود آج صلیبیوں اور یہودیوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے اور ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہی جبکہ دوسری جانب پاکستان پر جب جب جرنیل مسلط ہوئے انکے تعلقات امریکیوں سے بڑھتے رہے اور یہ ملک پاکستان تباہی کا شکارہوا ہے لیکن آج تک یہ ڈفرجرنیل یہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
  • ایوب خان,ضیاءالحق اور مشرف سے بھی یہ جرنیل سبق نہی حاصل کرسکے۔کہ ضیاءالحق نے جس بھٹو کو پھانسی دی آج اسکا خمیازہ ابھی تک یہ عوام بھگت رہی ہے,تب بھی بھٹو کو جرنیل ضیاءالحق نے امریکہ کے کہنے پر ہٹایا اور پھر پھانسی دی۔آج عمران خان بھی اسی امریکہ کی سازشوں کا شکارہے اور حکومت سے ہٹاکرانکو جیل میں ڈالا ہے اور بنیادی سہولیات سے محروم کردیا ہے جبکہ انکی ایک آنکھ بھی ضائع ہو چکی ہے, اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ آنکھ جرنیلوں نے جان بوجھ کر ضائع کی ہے کہ کیا عوام کا کوئی ردعمل آتا ہے یا نہی ,مطلب عوام کی نبض کو چیک کیا جارہا ہے اور دوسری طرف اگر ردعمل نہی آتا تو انکو بھی بھٹو کی طرح راستے سے ہٹادیا جائے گا۔دوسرا یہ کہ اگر عوام کا ردعمل شدید ہوا تو آنکھ کے علاج کے بہانے عمران خان کو ملک سے باہر بھیجا جاسکتاہے لیکن جرنیل اپنے آپ کو عقل قل کیوں سمجھتے ہیں جبکہ عوام انکو ڈفرز کہتی ہے کیونکہ وہی پرانے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ اب باربار لوگوں کو بھیج کر عمران خان کو کہا جارہا ہے کہ آپ کو علاج کے لیے بھیج دیتے ہیں اور آپکی چند باتوں کو بھی مان لیتے ہیں مگر کیا یہ ریلیف بھی سیاسی ہے یا سازشی ہے عوام کو جاننا ہوگا۔
  • ۔بیماری، بینائی اور “طبی بنیادوں پر ریلیف” کی سیاست

سیاست میں جب براہِ راست مذاکرات ناکام ہو جائیں، تو “پردے کے پیچھے” کی تدابیر کا سہارا لیا جاتا ہے:

  • سیاسی راستہ دینے کا بہانہ (Exit Route): کسی بھی لیڈر کو ملک سے باہر بھیجنے کے لیے قانونی اور اخلاقی جواز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی “بیماری” اور “علاج” کو ایک ایسے راستے کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے مقتدرہ پر یہ الزام نہ آئے کہ انہوں نے ڈیل کی، اور سیاستدان پر یہ داغ نہ لگے کہ وہ ڈر کر بھاگ گیا۔
  • نفسیاتی دباؤ اور افواہیں: عمران خان کی صحت، بینائی یا جیل کی مخدوش صورتحال کے حوالے سے آنے والی خبریں بعض اوقات مقتدرہ کی طرف سے ایک ٹیسٹ کیس (Testing the Waters) ہوتی ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ خان، ان کی فیملی اور پارٹی کا اس پر کیا ردعمل آتا ہے اور کیا وہ کسی دباؤ کا شکار ہو کر ملک چھوڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔

۳۔ ہر سازش اور آفر ناکام کیوں ہو رہی ہے؟

یہ سوال سب سے اہم ہے کہ عمران خان پر ہر قسم کا دباؤ اور پیشکشیں ناکام کیوں ہو رہی ہیں؟ اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں:

الف۔ ماضی کا تجربہ اور بیانیہ (Narrative)

عمران خان اپنی دو دہائیوں کی سیاست میں مستقل یہ بیانیہ بناتے رہے ہیں کہ نواز شریف اور آصف زرداری “این آر او” (NRO) لے کر باہر بھاگ جاتے ہیں۔ اگر خان خود کسی بھی قسم کی ڈیل یا بیماری کا بہانہ بنا کر باہر چلے گئے، تو ان کا یہ بیانیہ پاش پاش ہو جائے گا اور ان کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ وہ اپنے بیانیے کے قیدی بن چکے ہیں، جس پر وہ سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

ب۔ “نیلسن منڈیلا” کا امیج

عمران خان اور نیلسن منڈیلا

عمران خان خود کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے مزاحمتی لیڈر کے طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جیل کاٹ کر وہ عوام کی نظر میں مظلومیت اور بہادری کا وہ مقام حاصل کر لیں گے جو پاکستان کی تاریخ میں کسی اور کو نہیں ملا۔ وہ جانتے ہیں کہ ملک سے باہر جانے کا مطلب سیاسی موت ہے، جبکہ جیل میں رہنا ان کی مقبولیت کا ایندھن ہے۔

ج۔ سوشل میڈیا اور بدلتی ہوئی عوامی نفسیات

ماضی میں جب رہنما باہر جاتے تھے تو میڈیا کو کنٹرول کرنا آسان تھا۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں عوام ہر چیز کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ مقتدرہ کی روایتی حکمتِ عملیاں اس لیے ناکام ہو رہی ہیں کیونکہ عوام اب پرانے اسکرپٹس (جیسے اچانک بیمار ہو جانا اور باہر چلے جانا) کو فوری طور پر بھانپ لیتے ہیں اور اسے قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔

خلاصہ (Conclusion)

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا روایتی “باہر بھیجنے کا فارمولا” بری طرح ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ عمران خان نے مقتدرہ کے سامنے ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی ہے جسے نہ تو مائنس کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی پلس۔
مقتدرہ کے پاس اب آپشنز ختم ہو رہے ہیں: اگر وہ خان کو جیل میں رکھتے ہیں تو خان کی مقبولیت بڑھتی ہے، اور اگر وہ انہیں کوئی ریلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ اسٹیبلشمنٹ کی اپنی پسپائی تصور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سازش، آفر اور دباؤ اب تک ناکام نظر آتا ہے، اور یہ کھیل اب “بقا کی جنگ” کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اپنی قیمتی رائے کمنٹس میں دیں ۔۔شکریہ

Leave a Reply

Discover more from zarsheedkhan|Latest Current Affairs & World News

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading