کیا امریکہ اور ایران کی صلح تکمیل ہوگی؟اسرائیل کیوں مسلمان ممالک کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے؟امریکہ اور ایران کی جنگ بندی,اسرائیل کیوں قبول نہیں کرتا؟

امریکہ اور ایران کی صلح

امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کبھی کشیدگی اور کبھی مذاکرات کا دور آتا رہا ہے۔ اگر کسی وقت محدود مفاہمت یا معاہدہ ہو بھی جائے تو اس کے مستقل رہنے کا انحصار دونوں ممالک کے مفادات، علاقائی حالات اور قیادتوں پر ہوتا ہے۔ اگر امریکہ کے ماضی کے فیصلوں کو سامنے رکھا جائے توامریکہ ماضی میں معاہدے توڑنے کا مجاز ٹہراہے اور ایک عجیب سی بات ہے کہ پوردنیا میں جنگیں امریکہ نے مسلط کی ہیں لیکن امریکہ پھر بھی ایک دھشتگرد ملک نہی ہے جبکہ اسطرح آور بہت سے دعوے جو امریکہ کرتاآرہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک میں اگر حملہ کرتاہے تو وہ اس ملک کے مفاد اور عوام کے مفاد میں کررہا ہے جبکہ بظاہر ایسا بلکل بھی نظر نہی آتا,جیسے لیبیاء,عراق,شام,مصر,افغانستان اور کئی دوسرے ممالک سرفہرست ہیں،ان ممالک کی حالت آج انتہائی خراب اور غیر مستحکم ہے۔لیکن امریکہ نے اپنے مفادات پورے کرکے وہاں کی عوام کو بے یارومددگار چھوڑ کر چلتا بنا,آج اگرامریکہ باربار ایران عوام کو اکسا رہاہے اور لالچ دے رہا ہے مگر ایرانی عوام کو ایک دفع ماضی پر اور امریکہ کے کرتوتوں پرنظر ڈالنی چاہیے کیونکہ جو امریکہ عورتوں کی حفاظت,تعلیم اور حقوق کے دعوے کررہاہے وہی امریکہ ان تمام گنونے کاموں میں شامل ہے, ایبسٹین فائل اسکا ثبوت ہے کہ امریکہ ایک درندہ ہے جسکو اسرائیل نے ایک پٹھے میں باندھا ہواہے اور جہاں دل کرتاہے وہاں چھوڑ کر جبر,ظلم اوراموال و ذخائر کو چھین لیتا ہے۔اسکے ثبوت ایک امریکی سینیٹر نے حالیہ بیانات میں دیے کہ مجھے ایک سمری موصول ہوئئ جس میں سات مسلمان ممالک کو 2030 تک زیرکرکے اپنی پسندیدہ حکومت بیٹھانا تھا,موصوف فرماتے ہیں کہ میں نے جب پوچھا تو جواب ملا کہ بس آپ دستحط کریں سوال نہی۔اسلئے مجھے لگتاہے کہ امریکہ موجودہ ایران کے ساتھ صُلح کو توڑ دے گا یا پھر اسرائیل امریکہ کو اتنا مجبورکردے گا کہ اسکو ایسا کرنا پڑے گا اور ایران,امریکہ اور اسرائیل جنگ دوبارہ سے شروع ہوجائے گی۔ اسلئے یہ صلح ضرور ٹوٹ جائے گی یا ہمیشہ قائم رہے گی، یہ اسرائیل پر منحصر ہے۔

اسرائیل جنگ بندی کیوں قبول نہیں کرتا؟

اسرائیل کی حکومت صرف اس وقت ایک ہی مشن پر کام کررہی ہے اور اس مشن کا نام ہے “دی گریٹر اسرائیل “عام طور پر یہ مؤقف پیش کرتی ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور سیکیورٹی کو ترجیح دیتی ہے۔ مگر ایسا ہے نہی کیونکہ جب سے اسرائیل اس خطے میں آیا ہے تب سے یہاں جنگ ہے  اور امن کو خطرہ رہا ہے, اسرائیل ہی اس خطے کا سب سے بڑا فسادی ملک ہے جنہوں نے ہزاروں فلسطینیوں، لبنانی , شامی,عراقی,سوڈانی اور مصری لوگوں  کا قتل بالواسطہ یا بالاواسطہ کیا ہے۔دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض فوجی کارروائیاں ضرورت سے زیادہ سخت ہوتی ہیں اور جنگ بندی میں تاخیر انسانی بحران کو بڑھاتی ہے۔ مختلف اسرائیلی حکومتوں کی پالیسیاں بھی ایک ہے اور وہ ہے گریٹر اسرائیل اور اس پر مسلمان ممالک کا شدید تحفظات ہیں مگر کچھ لوگوں کو اسرائیل نے خرید رکھا ہے اور وہ کچھ نہی بولتے,اسرائیل نے تمام مسلمان ممالک میں جتنے بھی گروہ ملک کے خلف لڑتے ہیں انکو باقاعدہ فنڈنگ بھی کرتاہے۔اور اسکا اظہار کئی بار اسرائیلی سرکار کے مختلف لوگ کرچکے ہیں۔

کیا اسرائیل مسلمان ممالک کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے؟

اسرائیل کے متعدد مسلم اکثریتی ممالک اور تنظیموں کے ساتھ تنازعات رہے ہیں، خصوصاً فلسطین، لبنان، شام اور ایران کے حوالے سے۔ تاہم تمام مسلم ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات یکساں نہیں ہیں۔ بعض مسلم ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی یا معاشی تعلقات بھی قائم کیے ہیں۔ مگر اسرائیل اپنے احداف کیطرف گامزن ہے اور گریٹر اسرائیل کے لیے وہ کسی بھی حدتک جاسکتا ہے۔

کیا امریکی عوام آج بھی اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں؟

امریکی عوام کی رائے یکساں نہیں ہے۔ کچھ لوگ اسرائیل کی مضبوط حمایت کرتے ہیں، کچھ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگ دونوں فریقوں کے لیے امن اور دو ریاستی حل کے حامی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر نوجوان امریکیوں میں فلسطینی عوام کے لیے ہمدردی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، لیکن اسرائیل کی حمایت بھی امریکی سیاست میں اب بھی اہم حیثیت رکھتی ہے۔

کیا دنیا کی ہر جنگ، وبا، جرم یا ظلم کے پیچھے اسرائیل ہے؟

اس دعوے کی قابلِ اعتماد عالمی شہادت  9/11ہے جو اسرائیل نے صرف اس لیے کروایا تاکہ مسلم ممالک پر چڑھائئ کرسکیں،آج پوری سوشل میڈیا انکے خلاف ثبوتوں سے بھری پڑی ہے,امریکہ کی پالیساں یہودی بنا رہے ہیں اور امریکی سیاسی لوگ بھی اسرائیل کے ہاتھوں کی کٹ پتلی ببے ہوئے ہیں کیونکہ جب سے ایبسٹین کا بھانڈا پھوٹاہے تب سے ٹرمپ اسرائیلی مفاد کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں۔ دنیا میں جنگیں، وبائیں، جرائم، دہشت گردی اور دیگر مسائل صرف اسرائیل کے پیدا کردہ ہیں۔ اگر اسرائیل کو اس دنیا سے مٹادیا جائے تو امن کا بول بالا ہو سکتا ہے۔

کیا مسلمان ہوش میں آئیں گے؟

یہ ایک رائے اور فکر کا سوال ہے۔ بہت سے مسلم مفکرین کا خیال ہے کہ مسلم دنیا کی ترقی کے لیے:

  • تعلیم اور تحقیق میں سرمایہ کاری
  • سائنسی ترقی
  • سیاسی استحکام
  • معاشی خود کفالت
  • باہمی اتحاد اور تعاون
    ضروری ہیں۔ تاریخ میں جب مسلم معاشروں نے علم، انصاف اور ادارہ سازی پر توجہ دی تو انہوں نے نمایاں ترقی کی۔

Leave a Reply

Discover more from zarsheedkhan|Latest Current Affairs & World News

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading