عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے 7مارچ 2022 کو امریکہ کیطرف سے بیجھے جانے والے سفیر کی مکمل تفصیل

7 مارچ 2022 کو عمران خان نے سائفرعوام کو دیکھایا

حصہ 1 :

ابتدا میں ڈونلڈ لو نے یوکرین بحران پر پاکستان کے مؤقف کا ذکر کیا

امریکی سائفر کی کاپی

“اور کہا کہ امریکہ اور یورپ میں لوگ پاکستان کے مؤقف پر تشویش رکھتے ہیں، خاص طور پر یوکرین کے معاملے پر پاکستان کی غیر جانبداری کو یہاں غیر جانبدار نہیں سمجھا جا رہا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ وزیراعظم عمران خان کی ذاتی پالیسی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم موجودہ سیاسی صورتحال میں عوامی تاثر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

میں نے جواب دیا کہ یہ تاثر درست نہیں۔ پاکستان کامؤقف مختلف اداروں کی مشاورت سے بنایا گیا ہے۔ پاکستان نے کبھی سفارتی معاملات عوامی جلسوں میں نہیں اٹھائے۔ وزیراعظم کے بیانات یورپی سفیروں کے خط کے ردعمل میں تھے، جو سفارتی آداب کے خلاف تھا۔

حصہ 2 :

میں نے پوچھا کہ کیا امریکہ کا سخت ردعمل اقوام متحدہ میں پاکستان کے ووٹ سے متعلق ہے؟

ڈونلڈ لو نے جواب دیا:

“نہیں، اصل مسئلہ وزیراعظم عمران خان کا ماسکو جانا ہے۔ اگر عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو واشنگٹن میں سب کچھ معاف ہو جائے گا، کیونکہ روس کا دورہ وزیراعظم کا ذاتی فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔ بصورت دیگر پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا:

“اگر وزیراعظم عمران خان اقتدار میں رہتے ہیں تو یورپ اور امریکہ میں ان کے لیے تنہائی بڑھ جائے گی۔”

میں نے وضاحت کی کہ ماسکو کا دورہ کئی ماہ پہلے طے ہو چکا تھا، اور اُس وقت روس نے یوکرین پر حملہ نہیں کیا تھا۔

حصہ 3 :

میں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف صرف دو طرفہ تعلقات اور سفارت کاری کے تناظر میں ہے، اور پاکستان تمام فریقوں سے رابطہ رکھنا چاہتا ہے۔ہم نے افغانستان کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔ میں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ یوکرین بحران کی وجہ سے افغانستان کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

حصہ 4 :

ڈونلڈ لو

میں نے ڈونلڈ لو کو بتایا کہ پاکستان میں یہ تاثر موجود ہے کہ امریکہ ہماری قیادت سے بات چیت میں دلچسپی نہیں لے رہا۔

میں نے کہا:

“پاکستان کو کشمیر سمیت اہم معاملات پر امریکہ کی حمایت درکار ہے، اس لیے اعلیٰ سطح پر رابطے ضروری ہیں۔”

میں نے یہ بھی کہا کہ اگر یوکرین پر پاکستان کا مؤقف امریکہ کے لیے اتنا اہم تھا تو ہمیں پہلے اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا۔

ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث یہ مناسب وقت نہیں۔

حصہ 5 :

میں نے کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ ممالک کو یوکرین بحران میں کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جائے۔

ڈونلڈ لو نے جواب دیا:

“میں آپ کا مؤقف واشنگٹن تک پہنچاؤں گا۔”

بعد میں انہوں نے بھارت اور امریکہ کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو چین کے تناظر میں دیکھتا ہے، اور یوکرین پر بھارت کی پالیسی وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے.

امریکی سائفر

حصہ 6 :(اہم حصہ)

میں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وزیراعظم عمران خان کے روس دورے سے پاک امریکہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ڈونلڈ لو نے جواب دیا:

“یہ معاملہ پہلے ہی تعلقات میں دراڑ پیدا کر چکا ہے۔ اگر سیاسی صورتحال تبدیل ہو جائے تو شاید سب کچھ جلد بہتر ہو جائے، ورنہ ہمیں اس مسئلے سے مسلسل نمٹنا پڑے گا۔

امریکی سائفر

حصہ 7 :

میں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ یوکرین کے بحران جیسی پیچیدہ صورتحال میں ممالک کو کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور سیاسی قیادت کی سطح پر فعال دوطرفہ مواصلاتی ذرائع (channels) رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈان (Don) نے جواب دیا کہ “آپ نے اپنا موقف واضح طور پر پہنچا دیا ہے اور میں اسے اپنی قیادت تک لے جاؤں گا”۔

حصہ 8 :

میں نے ڈان کو یہ بھی بتایا کہ ہم نے حال ہی میں پاک-امریکہ تعلقات پر منعقدہ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی سماعت کے دوران یوکرین کے بحران پر بھارتی موقف کا ان کا دفاع دیکھا ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ امریکہ، بھارت اور پاکستان کے لیے الگ الگ معیار اپنا رہا ہے۔ ڈان نے جواب دیا کہ یو این ایس سی (UNSC) اور یو این جی اے (UNGA) میں بھارت کی عدم شمولیت (پرہیز) کے بارے میں امریکی قانون سازوں کے شدید جذبات سماعت کے دوران واضح طور پر سامنے آئے۔ میں نے کہا کہ سماعت سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ امریکہ کو پاکستان کے مقابلے بھارت سے زیادہ توقعات ہیں، تاہم وہ پاکستان کے موقف کے بارے میں زیادہ فکر مند دکھائی دیتا ہے۔ ڈان ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا اور اس نے جواب دیا کہ واشنگٹن پاک-امریکہ تعلقات کو بہت حد تک چین میں ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بھارت کے ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن “میرا خیال ہے کہ جیسے ہی تمام بھارتی طلباء یوکرین سے باہر نکل جائیں گے، ہم واقعی بھارت کی پالیسی میں تبدیلی دیکھیں گے”۔

حصہ 9 :

میں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیراعظم کے دورہ روس کا معاملہ ہمارے دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ ڈان نے جواب دیا کہ “میں یہ کہوں گا کہ ہمارے نقطہ نظر سے اس نے تعلقات میں پہلے ہی ایک دراڑ پیدا کر دی ہے۔ آئیے یہ دیکھنے کے لیے چند دن انتظار کریں کہ آیا سیاسی صورتحال بدلتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس مسئلے پر ہمارا کوئی بڑا اختلاف نہیں رہے گا اور یہ دراڑ بہت جلدی ختم ہو جائے گی۔ بصورت دیگر، ہمیں اس مسئلے کا براہِ راست سامنا کرنا پڑے گا اور یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس سے کیسے نمٹا جائے”۔

حصہ 10 :

ہم نے افغانستان اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ہماری گفتگو کے اس حصے پر ایک الگ مراسلہ درج ہے۔

تخمینہ (Assessment)

حصہ 11 :

ڈان وائٹ ہاؤس کی واضح منظوری کے بغیر اتنا سخت سفارتی احتجاج (demarches) نہیں پہنچا سکتا تھا، جس کا اس نے بار بار حوالہ دیا۔ واضح طور پر، ڈان نے پاکستان کے اندرونی سیاسی عمل کے بارے میں غیر ضروری بات کی۔ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور (Cd’A a.i) کے سامنے مناسب سفارتی احتجاج (demarche) کرنے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اہم نوٹ: [مدہم متن]

  1. ​سیکریٹری برائے وزیراعظم
  2. ​فارن سیکریٹری
  3. ​چیف آف آرمی اسٹاف
  4. ​ڈی جی (آئی ایس آئی)، اسلام آباد
  5. ​ڈائریکٹر (ایس ایس پی) ایس ایس پی سیکشن
  6. ​سپر کاپی

سفیر کی رائے :

“ڈونلڈ لو اتنا سخت پیغام وائٹ ہاؤس کی منظوری کے بغیر نہیں دے سکتے تھے۔ واضح طور پر انہوں نے پاکستان کے اندرونی سیاسی عمل پر ناراضی کا اظہار کیا۔ ہمیں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور ممکنہ طور پر امریکہ کو سفارتی احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے.

Leave a Reply

Discover more from zarsheedkhan|Latest Current Affairs & World News

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading