
پاکستان کے موجودہ سیاسی، سماجی، معاشی اور بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملک اس وقت ایک گہرے اور کثیر جہتی بحران سے گزر رہا ہے۔ آپ نے جن مقتدر حلقوں (جرنیلوں)، سیاسی قیادت (ن لیگ، پیپلزپارٹی ,جے یو آئی)، اور عالمی اداروں (IMF) کا ذکر کیا ہے، وہ پاکستان کے اس سفر میں اہم کردار رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں سویلین بالادستی اور جمہوری اداروں کو مضبوط ہونے کا موقع نہیں ملا۔

- عسکری اثر و رسوخ: مقتدر حلقوں کا ملکی سیاست اور معیشت میں کردار ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے۔ فوج چونکہ ایک ڈسپلنری ادارہ ہے جہاں “حکم کی تعمیل بنیادی اصول ہوتا ہے، اس لیے جب یہی طرزِ عمل ایک پیچیدہ اور متنوع معاشرے پر لاگو کرنے کی کوشش کی جائے تو مسائل جنم لیتے ہیں۔ ریاستیں عقل، شعور، بحث و مباحثے اور عوامی امنگوں سے چلتی ہیں، محض احکامات سے نہیں چلتی مگریہ بات عیاشی میں بدمست اور دولت کے بہاؤ کی ریل پھیل اوراحتساب سے مثتثنیٰ ہونے کی وجہ سے جرنیل اس بات سے قاصرہوجاتے ہیں اور عہدے کے نشے میں عوام کو بھی ویسے ہی سمجھتے ہیں جیسے ایک عام فوجی صرف” یس سر”کاعادی ہوتاہے وہ عوام کو بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔اسی وجہ سے عوام پراسٹیبلشمنٹ یا پھر یہ کہناقطعی غلط نہی ہوگا کہ چند جرنیلوں کے فیصلوں کی وجہ سے عوام اور فوجی ادارے میں بہت دوریاں پیداہوگئی ہیں۔صرف اسٹیبلشمنٹ کو قصوروار ٹھہرانا ادھورا سچ ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت (خواہ وہ ن لیگ ہو، پیپلز پارٹی یا کوئی اور) نے بھی اکثر اپنے اقتدار کے لیے اسٹیبلشمنٹ بیساکھیوں کا سہارا لیا۔ جب وہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو انہی لہروں پر سوار ہوتے ہیں، اور جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں۔
2. معاشی بحران اور آئی ایم ایف (IMF) کا شکنجہ

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت معاشی خودمختاری کا نہ ہونا ہے۔
پاکستان اب تک آئی ایم ایف کے دو درجن سے زائد پروگرامز لے چکا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے اداروں پر مخصوص عالمی لابیوں کا اثر و رسوخ ہے، جو قرض دینے کے بدلے ملک کی اندرونی پالیسیوں (بجلی، گیس کی قیمتیں، ٹیکسز) کو ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ پاکستان اپنی کمزور معاشی پالیسیوں، اشرافیہ کی عیاشیوں اور پیداواری صلاحیت نہ بڑھانے کی وجہ سے ان بیساکھیوں کا محتاج ہو چکا ہے۔آئی ایم ایف بھی ٹیکس بھی صرف غریبوں پرلگاتے ہیں,جبکہ امیرکی عیاشیوں اور اخراجات پرکبھی ٹیکس نہی لگایااوروہ یہ جان بوجھ کر کرتے ہیں تاکہ پاکستان میں بدامنی ہو اورعوام اورحکومت دست و گریبان ہو اور عالمی اداروں کو یہ کہنے کا بہانہ ملے کہ پاکستان چونکہ ایٹمی ملک ہےتواس کے ایٹمی اثاثے دشمن کے ہاتب لگ سکتے ہیں توانکو اقوام متحدہ,امریکہ یا پھر کسی آور کے حوالے کرنے کی مانگ کی جاسکتی ہے۔
- اسرائیل اور پاکستان کے پسِ پردہ روابط کی افواہیں:
- جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، پاکستان کا آفیشل مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا، اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، ماضی میں مختلف ادوار (جیسے ضیاء الحق، مشرف، اور نواز شریف کے ادوار) میں کچھ غیر رسمی ملاقاتوں یا وفود (جیسے مولانا اجمل قادری کے دورے کا تذکرہ) کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، جن کا مقصد بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے عالمی منظرنامے کو سمجھنا یا دباؤ کم کرنا ہوتا تھا، لیکن عوامی سطح پر کوئی بھی حکومت اس کی ہمت نہیں کر سکی۔
3. سماجی اور معاشرتی تنزلی
سیاسی اور معاشی عدم استحکام نے پاکستانی معاشرے کو بری طرح متاثر کیا ہے:
- مایوسی اور برین ڈرین: ملک کے نوجوان، جو کل آبادی کا بڑا حصہ ہیں، شدید مایوسی کا شکار ہیں اور ریکارڈ تعداد میں ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
- شعور کی بیداری بمقابلہ جبر: اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، ماضی کی طرح “عقل و شعور سے عاری” ہو کر ہر حکم ماننے کو تیار نہیں ہے۔ عوام میں اپنے حقوق اور ملکی نظام کے بارے میں شعور بڑھا ہے، جس کی وجہ سے ریاست اور عوام کے درمیان خلیج گہری ہو گئی ہے۔
پاکستان کب تک بیساکھیوں پر رہے گا؟ (مستقبل کا حل)
پاکستان اس دلدل سے تب تک نہیں نکل سکتا جب تک بنیادی ساختیاتی تبدیلیاں (Structural Reforms) نہیں کی جاتیں۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
الف۔ آئین کی بالادستی اور اداروں کا اپنی حدود میں رہنا
فوج کا کام ملک کا دفاع ہے اور سیاستدانوں کا کام حکومت چلانا۔ جب تک مقتدر حلقے سیاست سے پیچھے نہیں ہٹتے اور سیاسی جماعتیں بیساکھیاں ڈھونڈنا بند نہیں کرتیں، ملک میں حقیقی استحکام نہیں آ سکتا۔ فیصلہ سازی کا اختیار صرف عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہونا چاہیے۔
ب۔ معاشی خود انحصاری
آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ:
- اشرافیہ (جرنیلوں، ججز، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں) کو ملنے والی مراعات اور عیاشیاں ختم کی جائیں۔
- ٹیکس کا دائرہ کار جاگیرداروں اور بڑے تاجروں تک بڑھایا جائے، نہ کہ صرف غریب عوام پر بوجھ ڈالا جائے۔
- ملکی برآمدات (Exports) اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ قرضوں پر انحصار ختم ہو۔
ج۔ قانون کی یکساں حکمرانی
جب تک ملک میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون رہے گا، کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ احتساب بلا تفریق اور شفاف ہونا چاہیے، نہ کہ اسے سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جائے۔
حاصل کلام
پاکستان کا بیساکھیوں پر چلنے کا سفر تب ہی ختم ہوگا جب ملک کے تمام مقتدر طبقات یہ تسلیم کر لیں گے کہ 24 کروڑ عوام کو کسی “کمانڈ” کے تحت غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔ ملک کو چلانے کے لیے بندوق کی گولی یا حکم نامے کی نہیں، بلکہ قانون کی بالادستی، معاشی انصاف اور عوام کے اعتماد کی ضرورت ہے۔
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں
Zarsheedkhan22@gmail.com
Leave a Reply