ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے دورے کے عالمی اثرات — ایران، چین، روس اور اسرائیلی لابی پر ایک تجزیہ

ڈونلڈ ٹرمپ کی جی شینگ پنگ سے ملاقات

دنیا کی سیاست اس وقت ایک انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ امریکہ، چین، روس اور ایران جیسے بڑے ممالک کے درمیان تعلقات عالمی معیشت، جنگوں اور خطے کے امن پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا اہم دورہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات صرف امریکہ اور چین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایران,روس اور مشرق وسطیٰ کی پوری سیاست متاثر ہوسکتی ہے۔

چین اور ایران کے تعلقات

گزشتہ کئی برسوں میں چین اور ایران کے تعلقات کافی مضبوط ہوئے ہیں۔ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے جبکہ دونوں ممالک نے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کے کئی معاہدے بھی کیے ہیں۔ امریکہ کی پابندیوں کے باوجود چین نے ایران کے ساتھ مکمل تعلقات ختم نہیں کیے۔

اگر ٹرمپ چین کے ساتھ بہتر تجارتی یا سیاسی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین ایران سے فاصلے بڑھا سکتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ چین اپنے مفادات کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ چین ایک طرف امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بہتر رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ ایران کو مکمل طور پر چھوڑنا بھی نہیں چاہے گا کیونکہ ایران چین کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ ہے اور “بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔

لہٰذا زیادہ امکان یہی ہے کہ چین ایران سے مکمل پیچھے نہیں ہٹے گا بلکہ ایک متوازن پالیسی اپنائے گا۔

روس کا کردار

روس اس وقت عالمی سیاست میں امریکہ کے مقابل ایک بڑی طاقت کے طور پر سامنے آچکا ہے۔ خاص طور پرروس اور یوکرین کے بعد روس نے چین اور ایران کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔

روس، ایران کو خطے میں ایک اہم اتحادی سمجھتا ہے۔ شام، تیل، دفاعی تعاون اور امریکی اثر و رسوخ کے خلاف کئی معاملات میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

اگر امریکہ چین کے ساتھ تعلقات بہتر بھی کرلے تب بھی روس ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے گا کیونکہ یہ اتحاد مغربی دباؤ کے مقابلے میں روس کے لیے اہم ہے۔

اسرائیلی لابی اور امریکی پالیسیاں

امریکہ میں اسرائیل کی حمایت ایک اہم سیاسی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کے حق میں کام کرنے والی مختلف تنظیمیں اور لابیاں امریکی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی بعض جنگوں میں اسرائیلی مفادات بھی شامل رہے ہیں۔اور ان باتوں کا انکشاف امریکی تجزیہ نگار The wars of CIA میں کرچکے ہیں۔

تاہم امریکی حکام اور سیاستدان اس معاملے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اپنی قومی سلامتی، تیل، دہشت گردی اور عالمی طاقت برقرار رکھنے کے لیے جنگوں میں شامل ہوتا ہے، نہ کہ صرف کسی ایک لابی کے دباؤ پرمگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے,اس وقت امریکی عوام انتہائی تشویش میں ہے کہ ہم باربار اسرائیلی جنگوں میں کیوں اپنی معاشی طاقت ضائع کررہے ہیں۔بہت سے امریکی صحافی تو یہ بات بے بانگ دہل کہہ رہے ہیں کہ یہ سب جنگیں اسرائیلی مفادات کے لیے لڑی جارہی ہیں,کیونکہ جب سے اسرائیل کی بنیاد مشرق وسطی میں رکھی گئی ہے تب سے اسرائیل نے امن کو تباہ و برباد کرکے رکھاہواہے,پڑوسی ممالک کیساتھ تو یا معاشی معاہدے کرکے انکو خاموش کروایا گیاہے یا پھرانکو ڈرادھمکا کرانکو خاموش کروایاگیا ہے۔اسکی مثال اردن,فلسطین,شام,مصر,لیبیاء,سوڈان,مصر,عراق اور کئی دوسرے ممالک ہیں ان میں یاتواسرائیل بذت خود کاروایاں کررہاہے یاپھراپنے اتحادیوں سے کروارہاہے اور عراق,لیبیاء,فلسطین اور وہ تمام ممالک جو اس وقت ہر قسم کےعدم استحکام ہیں اسکے پیچھے اسرائیلی ہاتھ ہیں اور اسکے لیے بنایاگیا 9/11 کا حملہ بھی اسرائیل نے کروایا تھا تاکہ امریکہ کو استعمال کیاجاسکے اور ان ممالک کو نشانہ بنایاجائے جو اسرائیل کے لیے مستقبل میں خطرہ بن سکتے تھے۔اسرائیل ایک پلیت ریاست کے طورپروجود میں آیا اور آتے ہی تمام مسلمان ممالک کو انہوں نے نشانہ بنایا جبکہ نیتن یاہوجو ایک دھشتگردہے باربار یہ بات کررہے ہیں کہ ہم تو امن کے متلاشی ہیں اور قرآن پاک میں ان لوگوں کے بارے میں کہا گیاہے کہ اصل امن کو تباہ کرنے والے یہی لوگ ہیں اور جب بھی ان سے امن کے بارے میں بات کی جاتی ہےتویہ یہی بات دہراتے ہیں۔

دوسری طرف ناقدین یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ اسرائیل کے مفادات نے کئی مرتبہ امریکی خارجہ پالیسی کو متاثر کیا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے معاملات میں باربار امریکہ کو استعمال کیا ہے۔امریکہ اگرزوال پزیرہوگاتو وہ اسرائیل کی پالیسیوں کی وجہ سے ہوگا۔

مستقبل کی صورتحال

دنیا اب “ملٹی پولر” نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں صرف امریکہ ہی واحد طاقت نہیں رہا۔ چین معاشی طاقت بن چکا ہے، روس عسکری طاقت کے طور پر کھڑا ہے جبکہ ایران مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

اگر ٹرمپ دوبارہ عالمی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے ہیں اور چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے وقتی سفارتی تبدیلیاں آسکتی ہیں، لیکن چین، روس اور ایران کے تعلقات مکمل طور پر ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔

عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے — صرف مفادات ہوتے ہیں۔

نتیجہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے ممکنہ دورے سے دنیا میں نئی سیاسی بحث ضرور جنم لے سکتی ہے، لیکن چین فوری طور پر ایران سے مکمل علیحدگی اختیار کرے گا، اس کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔کیونکہ چین اپنے مفاد کے لیے کام کرتاہے کسی ملک کو وہ اپنے مفاد پر بالکل بھی ترجیح نہی دیتا اور چین کی ترقی کا راز بھی یہی ہے۔دوسری طرف  روس بھی ایران کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے۔

اسرائیلی لابی کے اثر و رسوخ پر بحث مستقبل میں بھی جاری رہے گی کیونکہ یہ موضوع امریکی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں میں ہمیشہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

دنیا اس وقت طاقت کے نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کررہا ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں۔

Zarsheedkhan22@gmail.com

Leave a comment