“آبنائے ہرمز کا بحران: امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا مستقبل کیا ہے؟”

عالمی جنگ یا بقا کی جنگ؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا تقریباً 20% سے 30% تیل گزرتا ہے۔ یہاں ہونے والی معمولی سی چھیڑ چھاڑ عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔

ٹرمپ کبھی آبنائے ہرمزکوکھولنے توکبھی بندکرنے کے لیے لڑرہاہے جسکا فائد صرف اسرائیل کو ہورہاہے۔

1. تیسری عالمی جنگ اور علاقائی طاقتوں کا کردار

اگر یہ تنازع ایک وسیع عالمی جنگ کی شکل اختیار کرتا ہے، تو اہم ممالک کا کردار کچھ یوں ہو سکتا ہے:

  • چین اور روس: یہ دونوں ممالک ایران کے سٹریٹجک پارٹنر ہیں۔ روس یوکرین جنگ کے بعد ایران کے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ چین اپنی توانائی (تیل) کی ضروریات کے لیے ایران اور خلیجی ممالک پر منحصر ہے۔ یہ دونوں براہِ راست جنگ کے بجائے سفارتی اور دفاعی تعاون (ہتھیاروں کی فراہمی) کے ذریعے امریکہ کو روکنے کی کوشش کریں گے۔
  • پاکستان اور افغانستان: پاکستان کے لیے یہ صورتحال “آگ کے دریا” جیسی ہوگی کیونکہ اسے امریکہ اور ایران کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ افغانستان (طالبان حکومت) ممکنہ طور پر ایران مخالف کسی بھی امریکی مہم کا حصہ نہیں بنے گا بلکہ اپنی زمین کو غیر جانبدار رکھنے کی کوشش کرے گا۔
  • پاکستان کے لیے یہ جنگ ایک بہت بڑا امتحان ہوگی:
  • سعودی عرب اور ایران کا توازن: پاکستان کو برادر اسلامی ملک (ایران) اور اپنے معاشی مددگار (سعودی عرب/امریکہ) کے درمیان توازن رکھنا ہوگا۔
    سی پیک (CPEC): اگر آبنائے ہرمز میں جنگ چھڑتی ہے، تو گوادر بندرگاہ کی اہمیت بڑھ جائے گی، لیکن ساتھ ہی خطے میں بدامنی پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

2. نیتن یاہو کے مقاصد: ذاتی بقا یا مذہبی نظریہ؟

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بارے میں تین اہم نظریات پائے جاتے ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا:

  • ذاتی سیاسی بقا: نیتن یاہو پر کرپشن کے سنگین کیسز ہیں۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ وہ جنگ کو طول دے کر اپنی حکومت بچانا چاہتے ہیں کیونکہ جنگ ختم ہوتے ہی انہیں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
  • مذہبی و نظریاتی پہلو: اسرائیل میں موجود سخت گیر مذہبی حلقے “عظیم تر اسرائیل” اور “مسیحا” کی آمد کے قائل ہیں۔ نیتن یاہو ان حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اکثر ایسے اقدامات کرتے ہیں جنہیں بعض لوگ “دجالی فتنہ” یا مذہبی پیشگوئیوں سے جوڑتے ہیں۔
  • اسرائیلی مفاد: اسرائیل ایران کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ امریکہ کے ذریعے ایران کی جوہری اور عسکری طاقت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے,
  • “گریٹر اسرائیل” اور نیتن یاہو کا مذہبی ایجنڈا
    نیتن یاہو کی کابینہ میں موجود سخت گیر وزراء (جیسے بن گویر اور سموٹریچ) کھلے عام “مقدس جنگ” کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کے ساتھ تصادم محض سیاسی نہیں بلکہ ایک مذہبی فریضہ ہے تاکہ خطے میں اسرائیل کا مکمل تسلط قائم ہو سکے۔

3. معاشی بحران اور غذائی قلت

یہ جنگ صرف بارود تک محدود نہیں رہے گی بلکہ:

  • تیل کی قیمتیں: اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں، جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان آئے گا۔
  • غذائی قلت: بین الاقوامی تجارت متاثر ہونے سے سپلائی چین ٹوٹ جائے گی، جس سے غریب ممالک میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔آج کل کی جنگیں صرف میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں۔ اگر ایران یا اسرائیل ایک دوسرے کے بجلی کے گرڈز یا سپلائی چین سسٹم پر سائبر حملہ کرتے ہیں، تو اناج کی تقسیم رک جائے گی، جس سے چند دنوں میں ہی شہروں میں خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
  • ڈالر کون کمائے گا؟: دفاعی صنعتیں (Arms Manufacturers) اور تیل کے بڑے تاجر اس افراتفری سے سب سے زیادہ منافع کماتے ہیں۔ جنگیں ہمیشہ اسلحہ ساز کمپنیوں کے لیے “کاروبار” ثابت ہوتی ہیں ,جنگ سے کون ڈالر کمائے گا؟ اس کا جواب صرف اسلحہ سازی تک محدود نہیں ہے۔
    امریکہ ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ عالمی تیل کی تجارت ڈالر میں ہی رہے۔
    اگر ایران، روس اور چین مل کر تیل کی تجارت کے لیے کوئی متبادل کرنسی لاتے ہیں، تو ڈالر ڈوب سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ ڈالر کی قیمت برقرار رہے۔

4. ایران کا مستقبل: دفاع یا تباہی؟

ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں سے خود کو “غیر روایتی جنگ” (Asymmetric Warfare) کے لیے تیار کیا ہے۔

  • دفاعی مضبوطی: ایران کے پاس دنیا کا بہترین ڈرون اور میزائل پروگرام ہے۔ وہ پراکسی گروپس (حزب اللہ، حوثی وغیرہ) کے ذریعے اسرائیل اور امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • تباہی کا خطرہ: اگر براہِ راست حملہ ہوتا ہے تو ایران کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن ایران کو مکمل طور پر زیر کرنا کسی بھی عالمی طاقت کے لیے ناممکن حد تک مشکل ثابت ہوگا۔

نتیجہ (Conclusion)

یہ جنگ کسی ایک فریق کی جیت نہیں بلکہ انسانیت کی ہار ثابت ہوگی۔ نیتن یاہو کے ذاتی مفادات اور امریکہ کی عالمی چودھراہٹ نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ بہت دشوار ہے۔

“آپ کے خیال میں کیا نیتن یاہو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں دھکیل رہے ہیں؟”

کمنٹس میں ضرور اپنی رائے کا اظہار کریں۔

Leave a comment